یہ سوال ہمیں اپنے آپ سے ضرور پوچھنا چاہیے جب ہم غصّے میں ہوں۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا کوئی سیدھا جواب نہیں، لیکن یہ ہماری سوچ اور سچائی کو بدل سکتا ہے۔ اور جب آپ یہ سوال اُس وقت پوچھتے ہیں جب آپ کسی وجہ سے پریشان ہوں تو اس کا اثر اور بھی گہرا ہوتا ہے۔
صوفی، سنت اور فقیر یہ سوال اُس وقت پوچھتے ہیں جب اُن کا ذہن شور مچا رہا ہوتا ہے۔
ہر چیز سوچ سے شروع ہوتی ہے، اور سچائی کو بھی سوچ کے ذریعے بدلا جا سکتا ہے۔
تو آج کا لاگ یہیں ختم کرتے ہیں۔ اس سوال کو اُس وقت استعمال کریں جب آپ ڈسٹرکٹ ہوں، ذہن کو کنٹرول کرنا ہو، یا غیر ضروری خیالات چل رہے ہوں۔