چلو میری اپنی کہانی سناتا ھون ۔
جب میں دفتر میں داخل ہوتا ھوں ۔ میں کہتا ہوں ، ہیلو، صبح بخیر، السلام علیکم۔ ****نمسکارم****۔
لیکن آج عجیب واقعہ ہوا ہے۔ آج جب میں دفتر میں داخل ہوا۔ میں ہر ورک سپیس میں ہر ایک کو اجتمائی اس طرح سلام کہا سلام، نمستے، نمسکرم،۔ ایک خاتون مجھ پر اعتراض کرنے لگیں کہ آپ نمسکارم کیوں کہہ رہے ہیں؟ یہ **نمستے** ہے یا اگر آپ اسے صحیح طریقے سے کر ہیں اور ہاتھ جوڑیں ۔ ورنہ نا کریں ۔ اگر آپ کچھ سیکھنا چاہتے ہیں۔ صحیح طریقے سے سیکھیں۔ یہ میرے لیے بہت عجیب رویہ تھا ۔
اس وقت مجھے ****نمسکارم اور نمستی کا فرق معلوم نہیں تھا ۔***
دبئی میں کام کرنے والے زیادہ تر ہندوستانی جنوبی جانب سے ہیں۔ وہ نمسکار یا نمسکارم کہتے ہیں ۔ اور شمالی ہند والے نمستے کہتے ہیں ۔
نقطہ صحیح ہے۔ ہر گریٹنگ کی کوئی نہ کوئی رسم ہوتی ہے جسے کے ہاتھ ملانا یا گلے لگنا ۔ ہم مختلف ثقافت کو نہیں سمجھ سکتے اور ان کی پیروی نہیں کر سکتے۔ جب ہم سمجھ نہیں سکتے تو آپ ان کی اصطلاحات کیوں استعمال کرتے ہیں۔
تو یہ میرے لئے بھی عجیب تھا۔ا میں صبح سویرے ہر ایک کو سلام کرنا پسند کرتا ہوں۔ کیونکہ یہ مجھے گھر میں سکھایا گیا ہے ۔ وہ یہ عادت میں اپنے وطن پاکستان سے لایا ہوں۔
بعد میں مجھے احساس ہوا کہ “گڈ مارننگ” جیسے الفاظ ہی کافی ہیں۔
بجائے اس کے سلام کہنا۔ نمستے، نمسکرم یا ست سری کال۔ آپ کو صرف یہ کہنا ہے، صبح بخیر، شب بخیر یا دوپہر کے بعد بخیر۔
لہذا نقطہ یہ ہے کہ جب لوگ مختلف ثقافت سے ہیں تو یا انکی روایت کو صحیح طریقے سے سیکھیں یا ۔ دوسری صورت میں صرف عام باتوں پر عمل کریں۔
تو یہ ہے۔ جب آپ ملٹی کلچرل ورک اسپیس میں کام کرتے ہیں۔ صرف صبح بخیر کہیں اس سے زیادہ گیراہی میں جانے کے ضرورت نہی ہے ہاں تو دوسو کیسی لگی یہ پوڈکاسٹ. کمینٹ دینا مت بھولیہ گا پھر ملتے ہیں کسی اور ٹوپک کے ساتھ کسی اور پوڈکاسٹ میں ۔