میرے دوستو کچھ سال پہلے میں بال کٹوانے کے لیے ایک حجام کی دکان پر گیا ۔ ہیئر ڈریسنگ کے دوران خود کو بہتر بنانے کی بحث شروع ہو گئی۔ مجھے یقین تھا کہ ہم اپنی زندگی بدل سکتے ہیں۔ ہم اپنے حالت کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ **ہیئر ڈریسر** نے مجھ سے پوچھا کہ اپنے حالت کو تبدیل کرنے میں کتنا وقت درکار ہو گا ۔ میں نے جواب دیا کہ کم از کم 5 سال درکار ہیں۔ آپ ابھی منصوبہ بندی کریں اور کام شروع کریں اپنے مقصد تک پہنچنے کے لیے کم از کم 5 سال درکار ہیں۔ اس نے جواب دیا 5 سال۔ 5 سال بہت طویل ہیں۔ میں نتتج حاصل کرنے کے لئے 5 سال انتظار نہیں کرسکتا۔ میں نے اس سے کہا، فصل ایک دن میں نہیں اگتی۔ ہمیں زمیں کو تیار کرنا ہے، اس میں مختلف گھاد شامل کرنا پڑتا ہے ۔ پھر ہم بیج ڈالتے ہیں، پھر پانی ڈالتے ہیں، قدرتی آفات بھی رکاوٹیں کھڑی کرتی ہیں لیکن مخصوص مہینوں کے بعد فصل اگنے لگتی ہے اور ہمیں نتائج ملتے ہیں۔ یہ فطرت کا قانون ہے. ہمیں انتظار کرنا ہوگا۔ ہمیں کوششیں، محنت کرنی ہوگی۔
یہاں مین محمدی بخش کا شعر میرے ذہن میں آیا **مالی دا کام پانی دینا بھر بھر مشکاں پاوے،** **ملک دا کام پھل پھول لانا وکیل یا نہ و
تبدیلی کے لیے منصوبہ بندی، کوشش اور استقامت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب تقریباً 8 سال گزر چکے ہیں وہ اب بھی اسی دکان پر کام کر رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ سینئر ہو گیا۔ میں جب کبھی دکان پر جاتا ہوں تو میرے ذہن میں ایک ہی سوال آتا تھا “کیا ہم اپنی حالت بدل سکتے ہیں؟” جواب ہاں میں ہے، لیکن ہمیں اس کے لیے منصوبہ بندی کرنی ہوگی، اور کوششیں کرنی ہوں گی لیکن ہم اس لیول پر نہی پہنچ سکتے جن کو دیکھ کر ہم انسپرے ہوے تھے جو ہمارا آئیڈیل ہیں ، لیکن ہم بہتر پوزیشن میں جا سکتے اور بہت بہتر ہو سکتے ہیں ۔ ہم اپنی حیثیت کو بدل سکتے ہیں۔