کیا  ہم اپنے حالت بدل سکتے ہیں 

میرے دوستو  کچھ  سال پہلے میں بال کٹوانے کے لیے ایک حجام کی دکان پر گیا ۔ ہیئر ڈریسنگ کے دوران خود کو بہتر بنانے کی بحث شروع ہو گئی۔ مجھے یقین تھا کہ ہم اپنی زندگی بدل سکتے ہیں۔ ہم اپنے حالت  کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ **ہیئر ڈریسر** نے مجھ سے پوچھا کہ اپنے حالت  کو تبدیل کرنے میں کتنا وقت درکار ہو گا ۔ میں نے جواب دیا کہ کم از کم 5 سال درکار ہیں۔ آپ ابھی منصوبہ بندی کریں اور کام شروع کریں اپنے مقصد تک پہنچنے کے لیے کم از کم 5 سال درکار ہیں۔ اس نے جواب دیا 5 سال۔ 5 سال بہت طویل ہیں۔ میں نتتج  حاصل کرنے کے لئے 5 سال انتظار نہیں کرسکتا۔ میں نے اس سے کہا، فصل ایک دن میں نہیں اگتی۔ ہمیں زمیں  کو تیار کرنا ہے، اس میں مختلف گھاد  شامل کرنا پڑتا ہے ۔ پھر ہم بیج ڈالتے  ہیں، پھر پانی ڈالتے ہیں، قدرتی آفات بھی رکاوٹیں کھڑی کرتی ہیں لیکن مخصوص مہینوں کے بعد فصل اگنے لگتی ہے اور ہمیں نتائج ملتے ہیں۔ یہ فطرت کا قانون ہے. ہمیں انتظار کرنا ہوگا۔ ہمیں کوششیں، محنت کرنی ہوگی۔ 

https://youtu.be/ZV6bT3yeRMY

یہاں مین محمدی  بخش کا  شعر میرے ذہن میں آیا **مالی دا کام پانی دینا بھر بھر مشکاں پاوے،** **ملک دا کام پھل پھول لانا وکیل یا نہ و

  تبدیلی کے لیے منصوبہ بندی، کوشش اور استقامت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب تقریباً 8 سال گزر چکے ہیں وہ اب بھی اسی دکان پر کام کر رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ سینئر ہو گیا۔ میں جب کبھی دکان پر جاتا ہوں تو میرے ذہن میں ایک ہی سوال آتا تھا “کیا ہم اپنی حالت بدل سکتے ہیں؟” جواب ہاں میں ہے، لیکن ہمیں اس کے لیے منصوبہ بندی کرنی ہوگی، اور کوششیں کرنی ہوں گی لیکن ہم اس لیول پر نہی پہنچ سکتے جن کو دیکھ کر ہم انسپرے ہوے تھے  جو ہمارا آئیڈیل ہیں ، لیکن ہم بہتر پوزیشن میں جا سکتے اور بہت بہتر  ہو سکتے ہیں  ۔ ہم اپنی حیثیت کو بدل سکتے ہیں۔

کچھ صبر کے بارے میں

صبر کیا ہے. آج مجھے اس کے بارے میں اپنی سمجھ بیان کرنی  ہے۔ صبر ہے۔

https://youtu.be/ztd74ko_ZuM

تاخیر، مسائل، یا تکلیف کو ناراض یا پریشان ہوئے بغیر قبول کرنے یا برداشت کرنے کی صلاحیت۔

عربی اور اردو میں اس کے مترادف لفظ صابر ہے۔ اس مضمون کو تلاش کرنے کے دوران میں نے  قرآن کو بھی صبرکے بارے میں  بیان کرتا ہوا پایا۔

صبر کے ساتھ ایک لفظ اور آتا ہے جو کہ استقامت ہے۔ قرآن *قرآن، 3:200 میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کا ذکر فرمایا ہے۔

صبر کے  سادہ الفاظ میں  مطلب ہے ایسی چیز کو برداشت کرنا جسے آپ پسند نہیں کرتے۔ کچھ ایسی چیزیں ہیں جن کا ہم  سامنا کر رھے ہیں  اور جن کا  کوئی حل نہیں ہے۔ اس معاملے میں عام طور پر کہا جاتا کے  “پٹر صابر کر” ۔ بچو تمہیں برداشت کرنا پڑے گا۔

 لیکن یہاں میری سمجھ کچھ مختلف ہے۔ صبر کا مطلب  ہے  اگلی بار ایسا نہ ہو اس کی تیاری کریں۔ یا اسی طرح کی صورت حال کو سنبھالنے کے لئے تیاری  کریں. اگر آپ  بہتر نہیں ھوے  یا سیکھا نہی  تو آپ صبر  نہیں کر رہے ہیں۔

فرض کریں میں دیر سے جاگتا ہوں اور دیر سے دفتر پہنچتا ہوں۔ اور نتیجتاً باس ناراض ہو کر آدھے دن کی کٹوتی کی ہدایت کرتا ہے۔

میں صبر کے ساتھ اس کو برداشت کر تا  ہوں۔ کیوں کے  میں کچھ نہیں کر سکتا. لیکن یہ صبر نہیں ہے۔ صبر ہے۔ دوبارہ اس غلطی سے بچنے کی پوری کوشش کرنا ۔ مجھے صبح سویرے جاگنا ہے اور وقت پر دفتر انا ہے ۔

کئی بار نتائج نہیں آتے۔ ہم کوششیں کر رہے ہوتے ۔ ہمیں صبر سے کام لینا ہوتا ہے ا۔

سب کچھ اپنے صحیح وقت پر ہوتا ہے۔ یہاں ایک بار پھر سمجھنا   ہے کہ نتائج کیوں نہیں آرہے ہیں، یا تو ہم صحیح کام کر رہے ہیں یا یہ فطری عمل ہے کہ نتائج مخصوص وقت کے بعد آیئں گے ۔

مثال کے طور پر وزن کم کرنے کی کوشش کرنا۔ نتائج 3 ماہ میں آتے ہیں۔ ہمیں صبر اور استقامت سے کام لینا ہوگا۔ ایک دن نتائج آئیں گے، یہاں صبر میں امید بھی شامل ہے۔ 

آج  کے لیا اتنا  ہی کل ملیں  گے کسی نے ٹوپک کے ساتھ ۔