کچھ صبر کے بارے میں

صبر کیا ہے. آج مجھے اس کے بارے میں اپنی سمجھ بیان کرنی  ہے۔ صبر ہے۔

https://youtu.be/ztd74ko_ZuM

تاخیر، مسائل، یا تکلیف کو ناراض یا پریشان ہوئے بغیر قبول کرنے یا برداشت کرنے کی صلاحیت۔

عربی اور اردو میں اس کے مترادف لفظ صابر ہے۔ اس مضمون کو تلاش کرنے کے دوران میں نے  قرآن کو بھی صبرکے بارے میں  بیان کرتا ہوا پایا۔

صبر کے ساتھ ایک لفظ اور آتا ہے جو کہ استقامت ہے۔ قرآن *قرآن، 3:200 میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کا ذکر فرمایا ہے۔

صبر کے  سادہ الفاظ میں  مطلب ہے ایسی چیز کو برداشت کرنا جسے آپ پسند نہیں کرتے۔ کچھ ایسی چیزیں ہیں جن کا ہم  سامنا کر رھے ہیں  اور جن کا  کوئی حل نہیں ہے۔ اس معاملے میں عام طور پر کہا جاتا کے  “پٹر صابر کر” ۔ بچو تمہیں برداشت کرنا پڑے گا۔

 لیکن یہاں میری سمجھ کچھ مختلف ہے۔ صبر کا مطلب  ہے  اگلی بار ایسا نہ ہو اس کی تیاری کریں۔ یا اسی طرح کی صورت حال کو سنبھالنے کے لئے تیاری  کریں. اگر آپ  بہتر نہیں ھوے  یا سیکھا نہی  تو آپ صبر  نہیں کر رہے ہیں۔

فرض کریں میں دیر سے جاگتا ہوں اور دیر سے دفتر پہنچتا ہوں۔ اور نتیجتاً باس ناراض ہو کر آدھے دن کی کٹوتی کی ہدایت کرتا ہے۔

میں صبر کے ساتھ اس کو برداشت کر تا  ہوں۔ کیوں کے  میں کچھ نہیں کر سکتا. لیکن یہ صبر نہیں ہے۔ صبر ہے۔ دوبارہ اس غلطی سے بچنے کی پوری کوشش کرنا ۔ مجھے صبح سویرے جاگنا ہے اور وقت پر دفتر انا ہے ۔

کئی بار نتائج نہیں آتے۔ ہم کوششیں کر رہے ہوتے ۔ ہمیں صبر سے کام لینا ہوتا ہے ا۔

سب کچھ اپنے صحیح وقت پر ہوتا ہے۔ یہاں ایک بار پھر سمجھنا   ہے کہ نتائج کیوں نہیں آرہے ہیں، یا تو ہم صحیح کام کر رہے ہیں یا یہ فطری عمل ہے کہ نتائج مخصوص وقت کے بعد آیئں گے ۔

مثال کے طور پر وزن کم کرنے کی کوشش کرنا۔ نتائج 3 ماہ میں آتے ہیں۔ ہمیں صبر اور استقامت سے کام لینا ہوگا۔ ایک دن نتائج آئیں گے، یہاں صبر میں امید بھی شامل ہے۔ 

آج  کے لیا اتنا  ہی کل ملیں  گے کسی نے ٹوپک کے ساتھ ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *