نئ چیزوں کو کیسے سیکھیں فینمان تکنیک کے ساتھ

کیا آپ کو کسی ایسے ٹرینر یا استاد کا سامنا ہے جو گولڈ میڈلسٹ ہو یا اپنے شعبے میں مہارت رکھتا ہو لیکن جب وہ کچھ سکھاتا ہو۔ ہم اس کے لیکچر کو نہیں سمجھ سکتے۔

https://youtu.be/-gag9sDKpLg

کیا آپ کا سامنا ہے کہ آپ کا نان ٹیکنیکل باس آپ کو کال کرتا ہے اور آپ کو موجودہ کام یا کام کے بارے میں پوچھتا ہے۔ اور آپ کو اپنے کام کے بارے میں وضاحت کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زیادہ تر وقت مینیجرز تکنیکی نہیں ہوتے ہیں وہ چیزوں کو سنبھالنے میں اچھے ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو یہ مسئلہ درپیش ہے تو آپ کو اپنے باس سے ملنے جانے سے پہلے تیاری کی ضرورت ہے۔ یہاں بھی یہ تکنیک کام کرے گی۔

مجھے البرٹ آئن سٹائن کا ایک اقتباس ملا

****اگر آپ اسے آسانی سے بیان نہیں کر سکتے ہیں، تو آپ اسے اچھی طرح سے نہیں سمجھ سکے ۔ –

البرٹ آئن سٹائین****

سلام دوستو اس چینل میں خوش آمدید۔ اگر آپ کو یہ چینل یا اس جیسی چیزیں پسند ہیں۔ پلیز میرا چینل سبسکرائب کریں۔

اس تکنیک کو فین مین تکنیک کہا جاتا ہے۔

فین مین ایک نظریاتی طبیعیاتمسٹر  تھے جو  البرٹ البرٹ آئن سٹائن، سٹیفن ہاکنگ اور شیلڈن کوپر کے ہم پللہ تھے۔

ان کی نمایاں خدمات میں سے ایک فن مین ٹیکنیک کی تخلیق ہے۔ جس کی وضاحت میں یہاں کرنے جا رہا ہوں۔

#

## مرحلہ 1: ایک موضوع منتخب کریں۔

اس موضوع کو منتخب  کریں جس کے بارے میں آپ مزید جاننا چاہتے ہیں اور 1-3 گھنٹے تک اس کا مطالعہ کریں۔

۔

 انٹرنیٹ پر اس پر تحقیق کریں۔ اس کا اچھی طرح مطالعہ کریں۔ پھر کاغذ کا خالی ٹکڑا لیں یا اپنی پسندیدہ نوٹ لینے والی ایپ میں ایک نیا صفحہ کھولیں اگر آپ کمپیوٹر یا ٹیمپلیٹ پر زیادہ پسند کرتے ہیں۔

اس موضوع کو صفحہ کے اوپری حصے پر لکھیں۔

## مرحلہ 2: اسے تحریر میں رکھیں

اپنی سمجھ یا نوٹس لکھنا شروع کریں۔ ہر ممکن حد تک آسان لکھنے کی کوشش کریں۔ اس لحاظ سے سوچیں کہ آپ اسے کسی شخص کو سمجھانے جا رہے ہیں۔ جو اس موضوع پر کچھ نہیں جانتے۔ سادہ زبان استعمال کریں۔ کوئی مشکل زبان یا محاورہ استعمال نہ کریں۔

موضوع کو مختلف حصوں میں تقسیم کریں، مثال کے طور پر موضوع کا تعارف، آپ کیا بیان کرنے جارہے ہیں۔  مختلف پوائنٹس میں تقسیم کریں۔ ٹوپک  کو جتنا ممکن ہو واضح طور پر لکھیں۔ غور کریں کہ آپ کسی ایسے شخص کو اس کی وضاحت کیسے کریں گے جو مضبوں  سے ناواقف ہے۔

جب آپ کسی ٹوپک  کو شروع سے اختتام تک سادہ زبان میں لکھتے ہیں، تو آپ اپنے دماغ کو اس مسئلے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ سمجھنے اور نئے آئیڈیاز جنم  لتے  ہیں۔

## مرحلہ 3: پڑھانا شروع کریں۔

جب آپ وضاحت لکھ رہے ہیں، تو یہ سوچیں  کہ   اسے پرائمری اسکول کے طلباء کی کلاس کو پڑھا رہے ہیں۔ یہ مرحلہ اس

 بات کا تعین کرنے کے لیے اہم ہے کہ آپ کے فہم میں اب بھی کہاں کمی  ہے اور ترقی کے لیے علاقوں کی نشاندہی کرنے کے لیے۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر آئینے میں اپنے عکاس  کو سمجھانے کی کوشش کریں۔

## مرحلہ 4: مزید بہتری کے لیے واپس جائیں۔

جب آپ اپنے آپ کو کسی موضوع کو آسان الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر محسوس کرتے ہیں، تو اپنے نوٹس اور نصابی کتب کا حوالہ دیں جب تک کہ آپ ان کمزور پہلوؤں کو صاف اور واضح طور پر بیان کرنے کے لیے کافی پر اعتماد نہ ہوں۔

آپ نے اس مسئلے کے بارے میں اپنے علم کو مؤثر طریقے سے ظاہر کرنا  ہے جب آپ وسیع اور شاید مبہم اصطلاحات کو استعمال کیے بغیر اپنی سمجھ کو بیان کر سکتے ہیں۔ مرحلہ 4 خاص طور پر آپ کی جانچ کرتا ہے اور آپ سے مواد کو اچھی طرح سے سمجھنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

اس مرحلے کو چھوڑنے کے نتیجے میں جاننے کا غلط احساس پیدا ہوسکتا ہے۔

## مرحلہ 5: وضاحت کے لیے تشبیہات کا استعمال کریں۔

جب آپ کسی خیال کو واضح طور پر بیان نہیں کر سکتے ہیں، تو اپنی بات کو واضح کرنے کے لیے ایک تشبیہ دینے پر غور کریں۔ تشبیہ کا مطلب ہے مثالیں یا اس سے ملتی جلتی صورتحال تصور کو آسانی سے سمجھانا۔ مثال کے طور پر وہ چمگادڑ کی طرح اندھی ہے، رگیں خون کہ لیا اسی  ہیں جیسے  گاڑیوں کے لیے سڑکیں۔ یہ آپ کے دماغ کو معلومات کا ایک نئے انداز میں تجزیہ کرنے اور اسے ایک نئے نقطہ نظر سے دیکھنے کا مواقع  دیتا ہے۔ یہ مشابہت آپ کو چیزوں کو آسانی سے دوسروں کو سمجھانے یا دوسروں کے ساتھ اپنی مہارت کو شر  کرنے میں مدد کرتی ہے۔

# آؤٹرو

اس ویڈیو  میں نے آپ کو بتایا ہے کہ آپ اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں فین مین تکنیک کو کیسے استعمال  کر سکتے ہیں۔ اس کا مطالعہ کرنے اور اسے آسانی سے سمجھانے میں آپ کو بہت مدد ملے گی۔ بس ان تمام اقدامات پر عمل کریں اور ان میں سے کسی ایک کو بھی مت چھوڑیں۔ کیونکہ کسی بھی قدم سے اگنورے کرنے  کا نتیجہ اچھا نہیں ہوگا۔

اگر آپ کو یہ ویڈیو پسند آئے تو اس چینل کو لائک اور سبسکرائب کریں۔ کسی اور  ویڈیو میں ملتے ہیں۔

سلام، نمستے، نمسکرم، ست سری اکل یا صرف صبح بخیر

چلو میری اپنی کہانی سناتا ھون ۔

جب میں دفتر میں داخل ہوتا ھوں ۔ میں کہتا ہوں ، ہیلو، صبح بخیر، السلام علیکم۔ ****نمسکارم****۔

https://youtu.be/oS9kthe3q8Q

لیکن  آج  عجیب واقعہ ہوا  ہے۔ آج جب میں دفتر میں داخل ہوا۔ میں ہر  ورک سپیس میں  ہر ایک کو  اجتمائی اس طرح سلام کہا  سلام، نمستے، نمسکرم،۔ ایک خاتون مجھ پر اعتراض کرنے لگیں کہ آپ نمسکارم کیوں کہہ رہے ہیں؟ یہ **نمستے** ہے یا اگر آپ اسے صحیح طریقے سے کر ہیں   اور ہاتھ جوڑیں ۔ ورنہ نا کریں ۔ اگر آپ کچھ سیکھنا چاہتے ہیں۔ صحیح طریقے سے سیکھیں۔ یہ میرے لیے بہت عجیب رویہ تھا ۔

اس وقت مجھے ****نمسکارم اور نمستی کا فرق معلوم  نہیں تھا ۔***

دبئی میں کام کرنے والے زیادہ تر ہندوستانی جنوبی جانب سے ہیں۔ وہ نمسکار یا نمسکارم کہتے ہیں ۔ اور شمالی ہند والے  نمستے کہتے ہیں ۔

نقطہ صحیح  ہے۔ ہر گریٹنگ  کی کوئی نہ کوئی رسم ہوتی ہے جسے کے ہاتھ ملانا یا گلے لگنا ۔ ہم مختلف ثقافت کو نہیں سمجھ سکتے اور ان کی پیروی نہیں کر سکتے۔ جب ہم سمجھ نہیں سکتے تو آپ ان کی اصطلاحات کیوں استعمال کرتے ہیں۔

تو یہ میرے لئے بھی عجیب  تھا۔ا میں صبح سویرے  ہر ایک کو سلام کرنا پسند کرتا ہوں۔ کیونکہ یہ مجھے گھر میں سکھایا گیا ہے ۔ وہ  یہ عادت میں اپنے وطن پاکستان سے لایا  ہوں۔

بعد میں مجھے احساس ہوا کہ “گڈ مارننگ” جیسے الفاظ ہی کافی ہیں۔

 بجائے  اس  کے سلام  کہنا۔ نمستے، نمسکرم یا ست سری کال۔ آپ کو صرف یہ کہنا ہے، صبح بخیر، شب بخیر یا دوپہر کے بعد بخیر۔

لہذا نقطہ یہ ہے کہ جب لوگ مختلف ثقافت سے ہیں تو یا انکی  روایت کو صحیح طریقے سے سیکھیں  یا ۔ دوسری صورت میں صرف عام باتوں پر عمل کریں۔

تو یہ ہے۔ جب آپ ملٹی کلچرل ورک اسپیس میں کام کرتے ہیں۔ صرف صبح بخیر کہیں اس سے زیادہ گیراہی میں جانے کے ضرورت نہی ہے  ہاں تو دوسو کیسی لگی یہ پوڈکاسٹ. کمینٹ دینا  مت  بھولیہ گا   پھر ملتے ہیں کسی  اور ٹوپک کے ساتھ  کسی اور پوڈکاسٹ میں ۔

کیا  ہم اپنے حالت بدل سکتے ہیں 

میرے دوستو  کچھ  سال پہلے میں بال کٹوانے کے لیے ایک حجام کی دکان پر گیا ۔ ہیئر ڈریسنگ کے دوران خود کو بہتر بنانے کی بحث شروع ہو گئی۔ مجھے یقین تھا کہ ہم اپنی زندگی بدل سکتے ہیں۔ ہم اپنے حالت  کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ **ہیئر ڈریسر** نے مجھ سے پوچھا کہ اپنے حالت  کو تبدیل کرنے میں کتنا وقت درکار ہو گا ۔ میں نے جواب دیا کہ کم از کم 5 سال درکار ہیں۔ آپ ابھی منصوبہ بندی کریں اور کام شروع کریں اپنے مقصد تک پہنچنے کے لیے کم از کم 5 سال درکار ہیں۔ اس نے جواب دیا 5 سال۔ 5 سال بہت طویل ہیں۔ میں نتتج  حاصل کرنے کے لئے 5 سال انتظار نہیں کرسکتا۔ میں نے اس سے کہا، فصل ایک دن میں نہیں اگتی۔ ہمیں زمیں  کو تیار کرنا ہے، اس میں مختلف گھاد  شامل کرنا پڑتا ہے ۔ پھر ہم بیج ڈالتے  ہیں، پھر پانی ڈالتے ہیں، قدرتی آفات بھی رکاوٹیں کھڑی کرتی ہیں لیکن مخصوص مہینوں کے بعد فصل اگنے لگتی ہے اور ہمیں نتائج ملتے ہیں۔ یہ فطرت کا قانون ہے. ہمیں انتظار کرنا ہوگا۔ ہمیں کوششیں، محنت کرنی ہوگی۔ 

https://youtu.be/ZV6bT3yeRMY

یہاں مین محمدی  بخش کا  شعر میرے ذہن میں آیا **مالی دا کام پانی دینا بھر بھر مشکاں پاوے،** **ملک دا کام پھل پھول لانا وکیل یا نہ و

  تبدیلی کے لیے منصوبہ بندی، کوشش اور استقامت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب تقریباً 8 سال گزر چکے ہیں وہ اب بھی اسی دکان پر کام کر رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ سینئر ہو گیا۔ میں جب کبھی دکان پر جاتا ہوں تو میرے ذہن میں ایک ہی سوال آتا تھا “کیا ہم اپنی حالت بدل سکتے ہیں؟” جواب ہاں میں ہے، لیکن ہمیں اس کے لیے منصوبہ بندی کرنی ہوگی، اور کوششیں کرنی ہوں گی لیکن ہم اس لیول پر نہی پہنچ سکتے جن کو دیکھ کر ہم انسپرے ہوے تھے  جو ہمارا آئیڈیل ہیں ، لیکن ہم بہتر پوزیشن میں جا سکتے اور بہت بہتر  ہو سکتے ہیں  ۔ ہم اپنی حیثیت کو بدل سکتے ہیں۔

کچھ صبر کے بارے میں

صبر کیا ہے. آج مجھے اس کے بارے میں اپنی سمجھ بیان کرنی  ہے۔ صبر ہے۔

https://youtu.be/ztd74ko_ZuM

تاخیر، مسائل، یا تکلیف کو ناراض یا پریشان ہوئے بغیر قبول کرنے یا برداشت کرنے کی صلاحیت۔

عربی اور اردو میں اس کے مترادف لفظ صابر ہے۔ اس مضمون کو تلاش کرنے کے دوران میں نے  قرآن کو بھی صبرکے بارے میں  بیان کرتا ہوا پایا۔

صبر کے ساتھ ایک لفظ اور آتا ہے جو کہ استقامت ہے۔ قرآن *قرآن، 3:200 میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کا ذکر فرمایا ہے۔

صبر کے  سادہ الفاظ میں  مطلب ہے ایسی چیز کو برداشت کرنا جسے آپ پسند نہیں کرتے۔ کچھ ایسی چیزیں ہیں جن کا ہم  سامنا کر رھے ہیں  اور جن کا  کوئی حل نہیں ہے۔ اس معاملے میں عام طور پر کہا جاتا کے  “پٹر صابر کر” ۔ بچو تمہیں برداشت کرنا پڑے گا۔

 لیکن یہاں میری سمجھ کچھ مختلف ہے۔ صبر کا مطلب  ہے  اگلی بار ایسا نہ ہو اس کی تیاری کریں۔ یا اسی طرح کی صورت حال کو سنبھالنے کے لئے تیاری  کریں. اگر آپ  بہتر نہیں ھوے  یا سیکھا نہی  تو آپ صبر  نہیں کر رہے ہیں۔

فرض کریں میں دیر سے جاگتا ہوں اور دیر سے دفتر پہنچتا ہوں۔ اور نتیجتاً باس ناراض ہو کر آدھے دن کی کٹوتی کی ہدایت کرتا ہے۔

میں صبر کے ساتھ اس کو برداشت کر تا  ہوں۔ کیوں کے  میں کچھ نہیں کر سکتا. لیکن یہ صبر نہیں ہے۔ صبر ہے۔ دوبارہ اس غلطی سے بچنے کی پوری کوشش کرنا ۔ مجھے صبح سویرے جاگنا ہے اور وقت پر دفتر انا ہے ۔

کئی بار نتائج نہیں آتے۔ ہم کوششیں کر رہے ہوتے ۔ ہمیں صبر سے کام لینا ہوتا ہے ا۔

سب کچھ اپنے صحیح وقت پر ہوتا ہے۔ یہاں ایک بار پھر سمجھنا   ہے کہ نتائج کیوں نہیں آرہے ہیں، یا تو ہم صحیح کام کر رہے ہیں یا یہ فطری عمل ہے کہ نتائج مخصوص وقت کے بعد آیئں گے ۔

مثال کے طور پر وزن کم کرنے کی کوشش کرنا۔ نتائج 3 ماہ میں آتے ہیں۔ ہمیں صبر اور استقامت سے کام لینا ہوگا۔ ایک دن نتائج آئیں گے، یہاں صبر میں امید بھی شامل ہے۔ 

آج  کے لیا اتنا  ہی کل ملیں  گے کسی نے ٹوپک کے ساتھ ۔